Sad Poetry | Urdu Sad Poetry 2 Lines | Sad Poetry in Urdu - Qasiwrites
If you want to read or see more poetry and quotes then visit our website and other pages related to quotes and poetry. Where you can get Urdu Quotes, Urdu Poetry, Motivational Quotes, Islamic Quotes, God Quotes, English Quotes, Rumi Quotes, Life Quotes, Love Quotes, Sad Poetry, Sufi Poetry, Attitude Poetry, and much more on our website. Our website is updated on a daily basis related to poetry and quotes topics.
وہم سے بھی ختم ہو جاتے ہیں رشتے
قصور ہر بار غلطیوں کا نہیں ہوتا
نہ ساتھ ہے کسی کا ، نہ سہارا ہے کوئی
نہ ہم ہیں کسی کے، نہ ہمارا ہے کوئی
بات کرو تو بے رخی دکھاتے ہیں
خاموش رہو تو مغرور کہتے ہیں
آپ مجھے زیادہ منہ نہ لگایا کیجئے
کم ظرف ہوں پھر وفا پر اتر آتا ہوں
کتنی مختصر سی ہے محبت کی داستاں
خوش فہمی سے شروع اور غلط فہمی پہ ختم
دوریوں میں سکون ملنے لگے تو
کھونے کا ڈر مر جاتا ہے
خود کی قدر ہو سکی نہ مجھ سے
سبب یہ بھی رہا ہے میری بربادی کا
اچانک اک ہمدرد ملا
پھر اسی سے ہر درد ملا
کتنی محبت سے تمہیں چاہا تھا
اور کس عقیدت سے ہار مانی ہے
سب قہقہوں سے، سوگوں سے
ہائے! دل بھر گیا ہے لوگوں سے
جس شخص نے تجھے چاہا نہیں مانگا نہیں
اسے تم مل جاؤ انصاف تھوڑی ہے
چلو اب بکھرنے دیا جائے اس رشتے کو
سنبھالنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے
سکون جن کی باتوں سے ملتا ہے
ان ہی کی خاموشی مار دیتی ہے
اب ڈر نہیں لگتا کچھ کھونے کو
میں نے زندگی میں زندگی کو کھویا ہے
یوں ہی آنکھوں کو بھا گیا وہ شخص
ہم نے کہاں محبت کرنے کا سوچا تھا
پھر اک روز میں نے مکمل چھوڑ دیا اس کو
وہ مجھے ہر روز تھوڑا سا چھوڑ جاتا تھا
اب کرکے فراموش تو ناشاد کرو گے
پر ہم جو نہ ہونگے تو بہت یاد کرو گے
کیسے بیان کرے ہم اپنا حال دل
جی تو رہے ہیں مگر یہ زندگی نہیں ہے
کتنا مشکل ہے اذیت یہ گوارا کرنا
دل سے اترے ہوئے لوگوں میں گزارا کرنا
کیا ملا آخر تجھے سایوں کے پیچھے بھاگ کر
اے دل نادان تجھے کیا ہم نے سمجھایا نہ تھا
آج بھی پیاری ہے مجھے تیری ہر نشانی
پھر چاہے وہ دل کا درد ہو یا آنکھوں کا پانی
نہیں تھا اعتبار اس کو میری مخلصی پہ
کھودیا اس نے مجھے آزماتے آزماتے
بے فیض لوگ تھے قدر نہ جان پائے ہماری
ہیرے کو ٹھکرا دیا اک پتھر کے واسطے
عادتیں ڈال کے اپنی توجہ کی
یکدم جو بدلتے ہیں ستم کرتے ہیں
مشہور بہت ہے میرے الفاظ کی تاثیر
ایک شخص مگر مجھ سے منایا نہیں گیا
مل چکی اپنے جرم کی سزا ہم کو
تا قیامت رہے گی تجھ سے امید وفا ہم کو
یقین کرو کوئی کسی کا نہیں ہوتا
دل کے دو حروف ہیں وہ بھی جدا جدا
تیری تھوڑی سی دل لگی
میرے دل کو جا لگی
میں ذہنی عادی تھا تمہارا
بات صرف محبت کی نہیں تھی
بچھڑنے کا وہ پہلے سے ارادہ کر چکا تھا
اُسے میری طرف سے بدگمانی چاہیے تھی
0 Comments